ابنا: پورے ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ آیت الله سید هاشم حسینی بوشہری نے گذشتہ روز نماز ظھر سے قبل رسا نیوزایجنسی کی انگلش سائٹ کے افتتاحیہ کے پروگرام میں « میڈیا کا اخلاق اهل بیت علیهم السلام کی نگاہ میں، میڈیا کے نقصانات ، میڈیا کی ضرورتیں اورعدم ضرورت » کے موضوع پر اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے معاشرے کی تعمیر اور تاریخ میں میڈیا کے کردار پر گفتگو کی ۔ انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ کبھی میڈیا معاشرہ کو عروج کی سمت تو کبھی پستیوں کی جانب لے جا سکتا ہے، پبلک افکار کو موڑنے اور ان کی ھدایتوں میں میڈیا کے اھم کردار ناقابل انکار جانا اور کہا: چاھے مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت ہے کہ آج میڈیا معاشرہ کی ذھنیت کی تعمیر میں نہایت موثر اور اھم کردار کا مالک ہے ۔ ایران کے حوزات علمیہ کے مدیر نے مزید کہا : سننے والے، دیکھنے والے، سخن کرنے والے، مکتوب اور ڈیجیٹل میڈیا سے رابطہ رکھنے والے افراد، میڈیا کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں مگر افسوس یہ میڈیا اپنی تمام خصوصیتوں کے ساتھ کبھی شدت پسندی اور بزرگنمائی تو کبھی بے توجہی اور کوچک نمائی سے کام لیتا ہے جبکہ دونوں ہی معاشرے کے لئے نقصان دہ اور عام افکار کو ضرر رساں ثابت ہوتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اگر موجودہ زمانہ کو عصر میڈیا سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا تاکید کی : عصر حاضر میں ایک میڈیا کا اثر ایک ایٹمی اور بڑے پیمانہ پر تباہی مچانے والے اسلحہ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے ، اج صنعتی ترقی یافتہ دنیا کو ضرورت نہیں کہ کسی قوم و ملت پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے اس کے خلاف مسلح جنگ کا آغاز کرے اور ان کے خلاف انواع و اقسام کے اسلحوں کو استعمال میں لائے ۔میڈیا سے اخلاقی فضائل کے نشر کی ضرورت آیت الله حسینی بوشهری نے عوام اور حکمرانوں کے طرز فکر و عمل اور عام افکار و ثقافت پر پروپگنڈہ کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر میڈیا اصلاح کا ارادہ کرے اور مسالمت آمیز تنقید کو اپنائے تو ائینہ بن کر انسان کے عیوب کو انسان کو دیکھا سکتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ میڈیا ھدایت کرنے والا اور مشکلات کو برطرف کرنے والا ہے و نیز ملتوں کی ترقی کی جانب گامزن رہتا ہے ۔ انہوں نے اهل بیت علیهم السلام کی نگاہ میں میڈیا کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے اخلاقیات کی ترویج میں میڈیا سے استفادہ حوزہ کے لئے ضروری جانا اور کہا: حوزوی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ اخلاقیات کے نشر و اشاعت ، اپنے وظائف کی انجام دہی اور اھداف و سیاستوں کی تکمیل میں مناسب افکار کا استعمال کرے ۔ پورے ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ نے مذھبی نیوز ایجنسی کی ذمہ داریوں کو دیگر تمام نیوز ایجنسیوں سے مختلف بتاتے ہوئے تاکید کی : اج انسانی کرامتیں مورد نظر رہیں ، رسا نیوز ایجنسی ایک مکمل ائیڈیل بنے اور دینی مطالب سے پیاسی دنیا کی تشنگی دور کرے ۔ انہوں نے انسانوں کے دلوں پر اثر انداز ہونے والے اسلام کے غنی معارف ، بے نظیر اسلامی ثقافت ، قران کریم ، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله اور اهل بیت علیهم السلام کی بیانات سے میڈیا میں استفادہ کئے جانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: قران اور دینی باتوں سے استفادہ کرنے والے کو میڈیا «و منها تفیض العلم الی سائر البلدان » پوری دنیا میں نشرعلم کی علمبرداری کی حیثیت پر مبارک باد دینا چاھئے ۔ حوزوی میڈیا اپنی نشریات میں دینی اعتقادات اور اقداروں کو بنیاد قرار دے آیت الله حسینی بوشهری نے مزید کہا: میں معتقد ہوں کہ اگر انبیاء و اولیاء الھی کے پاس اس طرح کا وسیلہ ہوتا تو دنیا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا، ھم اس سلسلے میں ھرگز کوتاہی نہ کریں اور ھم سے کسی قسم کی چُوک بھی نہ ہونے پائے ، یہ عظیم وسیلہ ھمارے اختیار میں ہے ھم اس کے ذریعہ دینی معارف کو دنیا تک بخوبی پہونچانے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے اهل بیت علیه السلام کو ایک عظیم میڈیا کا موجد قرار دیتے ہوئے منبروں اور ایام حج کی موقعیت سے میڈیا کے طور پر بخوبی استفادہ کئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اس زمانہ میں اهل بیت علیهم السلام نے حاجیوں کے وجود کو میڈیا کے عنوان سے فرض کرکے ساری دنیا تک اسلام کی باتیں پہونچائیں اور اج میڈیا کی راہ میں گامزن افراد کی حوصلہ افزائی لازمی ہے ۔ مدرسین حوزہ علمیہ قم کونسل کے رکن نے اپنے تقریر کے دوسرے حصہ میں میڈیا کے فوائد اور نقصانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: میڈیا کا سب سے پہلا فائدہ جس کی تکمیل کی رسا نیوزا ایجنسی کوشش کرسکتی ہے وہ مخاطبین کی شناخت ہے ، میڈیا اپنے مقاصد کی تکمیل میں مختلف قسم کے مخاطبین؛ سنی، شیعہ ،عالم ، جاھل ، اعلی تعلیم یافتہ اور کم علم افراد کے اعتقادی اور مذھبی اصولوں کے سلسلے میں منظم پروگرام بنائے اور بغیر مخاطبین کی شناخت کے کام نہایت دشوار ہے ۔میڈیا قومی اور عوامی مصالح کی تکمیل اپنے اھداف میں شامل کرے انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے میڈیا قومی اور عوامی مصالح اور ان کے اھداف و مقاصد کی تکمیل پر توجہ کرے ، کسی ایک گروپ کے مقاصد کو مورد نظر قرار نہ دیا جائے تاکید کی : میڈیا قومی اورعوامی مصالح کی تکمیل اپنے اھداف میں شامل کرے تاکہ عوام اپنا بیانیہ ، پروگرام اور مختلف مصنوعات میں انہیں شریک جانیں اور احساس کرے کہ ایک عظیم تحریک کا اغاز ہوا ہے کہ اگر ایسا ہو تو حمایتوں کی لہروں کا رخ اپ کی جانب ہوگا ۔ آیت الله حسینی بوشهری نے مزید کہا: میڈیا مختلف بحرانوں میں لوگوں کو دلگرمی دے اور انہیں راستہ دیکھاے ، میڈیا کی ذمہ داری فقط خبرپہنچانا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مشکلات کا حل بھی دینا ہے ، دلگرمی کا ایجاد اور مختلف راستہ دیکھانا بھی میڈیا کی شہرت میں نہایت موثر ہے اور حتی میڈیا ملک کے ذمہ داروں اور معاشرہ کی با اثر شخصیتوں کے فیصلہ میں بھی اپنا کردار نمایاں کرسکتا ہے ۔ انہوں نے ملکی میڈیا کو حق مدار اور حقیقت پسند رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: میڈیا حق و حقیقت کی دائرہ میں حق مدار اور حقیقت پسند رہے اور اگر میڈیا اس راستہ ہٹ جائے تو اس کے سقوط کا اغاز ہوگا، نیز میڈیا کے ذمہ داران بھی اس کی مکمل لیاقتوں اور صلاحیتوں سے مزین ہوں اور حق کے راستہ پر گامزن رہیں ۔ لوگوں کو بڑا یا چھوٹا کرنا میڈیا کے شایان شان نہیں حوزات علمیہ کے مدیر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میڈیا تربیت محور ہو نہ شخصیت محور ، لوگوں کو بڑا یا چھوٹا کرنا خصوصا ایسا بڑا یا چھوٹا کرنا جو دین کے خلاف ہو میڈیا قوانین کی خلاف ورزی جانا اور کہا: اگر کسی کو دین کے حق میں بڑا بنایا جائے اور اسی طرح کسی کو خوشنودی خدا میں چھوٹا کیا جائے تو اچھی بات ہے مگر اس کے علاوہ اس طرح کی تمام سرگرمیاں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی شمار کی جاتی ہے ۔ انہوں نے تاکید کی : میڈیا فکروں کا وسیلہ ہوغفلت اور بے توجہی کا وسیلہ نہ ہو ، میڈیا معاشرہ کو فکر عطا کرے اور معاشرہ کو اگاہی دے ، معاشرہ کو فکر و امید عطا کرے اور بیدار کرے اور دوسری جانب دشمنوں کی سازشوں سے پردہ اٹھانا بھی میڈیا کی اھم ذمہ داری ہے ۔ آیت الله حسینی بوشهری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ھم اس وقت ایک ھمہ گیر جنگ سے روبرو ہیں اور اگر ایسے وقت میں اسلامی اور مذھبی معاشرہ کو اس طرح چھوڑ دیں کہ دشمن کے سنگین حملوں کی زد میں اکر ریزہ ریزہ ہوجائے تو ھم نے غیر قابل بخشش گناہ انجام دیا ہے تاکید کی: امام خمینی (رہ) ، رھبر معظم انقلاب اسلامی اور انقلاب اسلامی کی دیگر اھم شخصیتیں جو ھمارے درمیان ہیں یا نہیں رہیں معاشرہ میں ھمارے لئے ایک کامیاب ائیڈیل ہیں ۔ انہوں نے اپنے گفتگو کے اخر میں میڈیا کے نقصانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ، حقائق کی تحریف سے دوری، باطل کی ترویج سے اجتناب ، نفسیاتی جنگ اور تفرقہ اندازی سے پرہیز اور معاشرہ میں اتحاد ویکجہتی برقرار کرنے کی کوشش کی تاکید کرتے ہوئے کہا: بعض میڈیا ماحول خراب کرنے میں مصروف ہوتے ہیں جو میڈیا کے اھداف کے برخلاف ہے ۔
.......
/169